نئی دہلی،15؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سنگھو بارڈر سے ایسی خبر آئی ہے جس نے سب کو پریشان کر دیا ہے۔ دس مہینوں سے زیادہ وقت سے دہلی اور ہریانہ کی سرحد سنگھو بارڈر پر کسان تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس دوران کئی کسانوں کی موت بھی ہوئی اور کئی دور کی حکومت سے بات چیت بھی ہوئی، لیکن وہاں سے کسی قسم کے تشدد کی خبر نہیں آئی تھی۔ اب خبر آئی ہے کہ کسانوں کے مظاہرہ کے اسٹیج کے قریب بیریکیڈ پر ایک نوجوان کی ہاتھ کٹی لاش لٹکی ملی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نوجوان کی لاش کو سو میٹر تک گھسیٹا گیا ہے۔
اس لاش کو دیکھ کر مظاہرہ گاہ میں ہڑکمپ مچ گیا اور بڑی تعداد میں بھیڑ جمع ہو گئی۔ خبروں کے مطابق لوگوں میں طرح طرح کی باتیں شروع ہو گئیں۔ ادھر پولیس کو موقع واردات میں پہنچنے میں بہت دشواری ہوئی ہے۔